news

بھارت میں کسانوں کا احتجاج، وزیر کے بیٹے نے 8 افراد کچل ڈالے،پرینکا گاندھی سمیت متعدد رہنما زیر حراست

نئی دہلی:(پیر: 04 اکتوبر 2021) بھارت میں کسانوں کے احتجاج کے دوران اپوزیشن رہنما پرینکا گاندھی اور نوجوت سنگھ سدھو سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں کسانوں کے پر امن احتجاج میں 8 افراد ہلاک ہونے پر احتجاج شدت اختیار کر گیا،نوجوت سنگھ سدھو، پرینکاگاندھی سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔

پنجاب اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلیٰ کو اتر پردیش میں داخلے سے روک دیا گیا ہے جبکہ اترپردیش ، پنجاب کے ساتھ بارڈر کو سیل کردیا گیا ہے اور سکھ کسانوں کو اترپردیش میں داخلے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ بھارت میں کسانوں پر بی جے پی رہنما کے بیٹے نے گاڑی چڑھا دی تھی، جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوئے جن میں 4 کسان بھی شامل ہیں۔ ریاست اتر پردیش میں کسان نائب وزیراعلیٰ اجے مشرا کی آمد پر احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے، احتجاج کے دوران اچانک 3 گاڑیاں تیزی سے آئیں اور وہاں موجود کسانوں کو روندتے ہوئے چلی گئیں۔

واقعے کے بعد مشتعل کسانوں نے متعدد سرکاری گاڑیوں کو آگ لگادی۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گاڑی میں نائب وزیر داخلہ کا بیٹا موجود تھا جس نے یہ حرکت جان بوجھ کر کی۔ رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ بھارتی لوک سبھا کے رکن اکھلیش یادیو کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، لکھنو میں بھارتی پولیس اور سماج وادی پارٹی کے کارکنوں میں تصادم ہوا، سماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

گزشتہ ہفتے کسان تحریک کو ایک سال مکمل ہونے پر بھارتی کسانوں نے ایک بار پھر پورے ملک کو بند کر دیا تھا۔ لاکھوں کسان تین نئے فارمنگ بلز پر عمل درآمد کیخلاف سراپا احتجاج ہیں، جس سے زرعی تجارت کے قوانین تبدیل ہوجائیں گے۔ کسانوں رہنماوں کا کہنا ہے کہ  ایک سال کیا 6 سال بھی لگ گئے تو متنازع قوانین رد کروا کر ہی واپس لوٹیں گے۔ واضح رہے کہ بھارت کے علاقوں غازی پور، سنگھو اور ٹکری بارڈر پر ہزاروں کسانوں کا دھرنا جاری ہے۔