news-details
حيدرآباد

ہزاروں لوگوں کو ملازمت دینے والے سلیمان جی ابڑو نے کبھی بھی اپنی ذات میں تکبر اور انا کو جگہ نہیں دی: سول سوسائٹی

حیدرآباد: (جمعرات 14 اپریل 2022ع) سافکو کے بانی اور سربراہ سلیمان کی سالگرہ تقریب منعقد کی گئی- دانشوروں، ادیبوں، سماجی رہنماؤں نے کہا ہے کہ جب بھی پاکستان میں سماجی خدمات کی تاریخ لکھی جائے گی وہ سلیمان جی ابڑو کا ذکر کیے بغیر نامکمل ہوگی۔ اس نے نہ صرف ادارے بنائے بلکہ بہت سے نوجوانوں کہ مواقع فراہم کرکے آگے بھی لائے، جو آج قومی سطح کے اداروں میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہزاروں لوگوں کو ملازمت دینے والے سلیمان جی ابڑو نے کبھی بھی اپنی ذات میں تکبر اور انا کو جگہ نہیں دی، ہمیشہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ جبکہ سلیمان جی ابڑو کا کہنا تھا انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کہ دنیا میں بہت بڑے کارنامے سرانجام دیے ہیں، ہم نے جب سماجی سرگرمیاں شروع کیں تو جاگیردار، وڈیرے اور بیوروکریٹس دشمنی پر اتر آئے، ڈاکوئوں کو ہمارے خلاف سرگرم کیا گیا تھا، لیکن ہم کسی کو بھی خاطر میں لائے بغیر ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھا۔
سافکو سپورٹ فاؤنڈیشن (SSF) اور سندھ ایگریکلچرل اینڈ فاریسٹری ورکرز کوآرڈینیٹنگ آرگنائزیشن (SAFّّّWCO) کی جانب سے حیدرآباد کلب میں سلیمان کے ابڑو کی سالگرہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ملک کے ممتاز وکیل رہنما یوسف لغاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سلیمان جی ابڑو ایک وطن دوست انسان ہیں، وہ نہ صرف این جی اوز کا کام کرتے ہیں بلکہ سندھ کی تاریخ بالخصوص قومی ہیروز کی سوانح حیات پر مبنی ان کی کئی کتابیں شایع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ادارے بنائے بلکہ اپنی مسابقتی اداروں کو مضبوط کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ماہر اقتصادیات پروفیسر مشتاق میرانی نے کہا کہ سلیمان جی ابڑو ہارورڈ یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی سمیت دنیا کے کئی اعلی ترین اداروں میں سے تعلیم حاصل کی۔ اپنی ذات میں کبھی غرور کو آنے نہیں دیا، ہم نے ان ہمیشہ مسکراتا دیکھا ہے۔ سندھ کے مسائل پر وہ کبھی خاموش نہیں رہے اور نہ ہی اس ضمن میں کسی ڈونر یا حکومت کی کوئی پرواہ کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر نے کہا کہ سلیمان جی ابڑو پاکستان سمیت دنیا میں جہاں بھی گئے وہاں سندھ کے کسانوں، محنت کشوں، خواتین سمیت پسماندہ طبقات کا کیس مضبوطی سے پیش کیا ہے۔ ایس ایس ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر سید سجاد علی شاہ نے کہا آج سافکو پورے ملک کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے سلیمان جی ابڑو کے ساتھ ان کے کام میں حصہ لیا ہے۔ الطاف نظامانی نے کہا کہ سلیمان جی ابڑو کی عناعت سے میں سیفکو کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہوں، وہ مجھ جیسے بہت سے لوگوں کو مواقع فراہم کرتے رہے ہیں، جو ملک بھر کے مختلف اداروں میں اعلی عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔
ذوالفقار ہالیپوٹو نے کہا سلیمان جی ابڑو سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ پروفیسر سید زنوار نقوی نے کہا کہ سلیمان جی ابڑو کا کردار حوصلہ افزا ہے، ان کی کہانی لکھی جاے تو دوسروں کے لیے مشعل راہ بنے گی۔ سماجی رہنما ذوالفقار قادری نے کہا کہ دوست تو سب کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن سلیمان جی ابڑو دشمنوں کو بھی اپنے ساتھ لیکر چلتے ہیں۔ ہینڈز کے ڈائریکٹر رزاق عمرانی نے کہا کہ سلیمان جی ابڑو مشکل ترین سفر طے کرتے ہوئے آج اس منزل تک پہنچے ہیں، اور سافکو ملک کے سب سے بڑے سماجی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ صحافی اسحاق منگریو نے کہا کہ سلیمان جی ابڑو سول سوسائٹی کا ایک طاقتور آواز ہیں۔ پروفیسر اعجاز کوہارو نے کہا کہ سلیمان درویش صفت انسان ہیں۔ تقریب کے دوران سلیمان جی ابڑو جو آنکھوں سے آنسوں پونچتے رہے، نے کہا کہ آپ نے مجھے جو عزت بخشی ہے وہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے اور اس سے مجھے مزید کام کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔
انہوں نے بتایہ کہ دنیا بھر کی شخصیات کی زندگیوں کی کہانیاں پڑھی، جن میں سے اکثر کا تعلق ہم جیسے انتہائی غریب گھرانوں سے تھا۔ ادبی کتابوں نے ہمیشہ ہماری تربیت و رہنمائی کی ہے۔ جب ہم نے اس سفر کا آغاز کیا تو جاگیردار، ڈاکو، انٹیلیجنس والے ہمارے پیچھے پڑگئے تھے۔ مجھے اغوا کرنے کے ڈاکوئوں کو ٹاسک دیے گئے، متعدد بار مجھے اغوا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مجھے اس وقت اپنی مستقبل کی کامیابیوں کا یقین ہوگیا تھا، جیسا کہ مہاتما گاندھی نے کہا ہے، جب گھر، محلے، شہر اور علاقے میں مخالفت شروع ہوئی اور جب تکالیف کے یہ چار مراحل پورے ہوئے تو پانچواں مرحلہ خدمات کے اعتراف کا آیا۔ آج کی یہ تقریب مجھے مزید تندہی سے کام کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ میں اس کے لیے آپ سب کا بیحد مشکور ہوں۔ تقریب سے ممتاز بانو شیخ، زیب النساء ملاح، عزیز گوپانگ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں سلیمان کی ابڑو کو تحائف اور گلدستے پیش کیے گئے اور آخر میں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔