news-details

وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کا 17 کھرب، 13 روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 15 فیصد اضافہ

اسلام آباد(آن لائین انڈس، 14 جون، 2022عہ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کا 17 کھرب، 13 روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا، ویزاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں 15 فیصد، اور پیشن میں 5 فیصد اضافہ کر لیا گیا ہے، نئے مالی سال کا بجٹ (اخراجات) 1713 ارب جب کہ آمدنی 1679 ارب ہے، بجٹ میں 33 ارب کا خسارہ ہے۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر ریحانہ لغاری کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ حکومت کا بجٹ پیش کیا، وزیراعلیٰ سندھ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے شور شرابہ اور نعرے بازی شروع کردی جس پر وزیراعلی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسی شور شرابے کے دوران بجٹ تقریر جاری رکھی

اپوزیشن کے تقریرکے دوران وزیراعلیٰ سندھ کا گھیراؤ کرلیااپوزیشن ارکان نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے ساتھ ہی انہوں نے بجٹ نامنظور کے نعرے لگائے۔

بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے یکم جولائی سے تخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کیا اور کہا کہ یکم جولائی سے ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد ایڈہاک الاؤنس بھی الگ سے لگایا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس وقت سندھ میں تمام صوبوں کی بہ نسبت پنشن کا تناسب سب سے زیادہ ہے، اگر کسی اور صوبے میں پنشن میں اضافہ ہوا تو ہم بھی کریں گے پولیس کانسٹیبل کو گریڈ پانچ سے اپ گریڈ کرتے ہوئے ان کا گریڈ سات کیا گیا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شعبہ صحت کے لیے نئے مالی سال 23-2022ء میں مجموعی بجٹ کا حجم 206.98 ارب روپے رکھا گیا ہے، جو کہ گزشتہ سال مختص کیے گئے 22، 181 ارب روپے کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے، ایس آئی یو ٹی کراچی کو 10 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی جاچکی ہے، پیر عبدالقادر جیلانی انسٹی ٹیوٹ گمبٹ کو 6 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی گئی ہے، جناح اسپتال کراچی کو کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے روبوٹک سرجیکل سسٹم قائم کرنے کے لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں 594 ملین روپے فراہم کیے گئے، 125 ملین روپے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز گاما نائف سینٹر ریڈیو سرجری کے ذریعے 500مریضوں کے علاج کے لیے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کڈنی سینٹر کراچی کو آئندہ مالی سال میں 200 ملین روپے کی امداد فراہم کی جائے گی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما سینٹر کراچی کو 2.4 بلین روپے مالی امداد دی جائے گی جب کہ اسے مشینری اور آلات کی خریداری کے لیے 500 ملین روپے کی ( ون ٹائم ) اضافی گرانٹ بھی رکھی گئی ہے، سندھ میں تھیلے سیمیا کے مریضوں کے علاج کے لیے 10 تھیلے سیمیا مراکز کی مالی امداد کی مد میں 290 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ امن و امان کیلئے 152 ارب روپے رکھے گئے ہیں، پولیس محکمہ کے لیے 109 ارب، جیل کے لیے 5.5 ارب، فارنزک لیبارٹری کے لیے ایک ارب روپے، سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے 5 ارب روپے مختص ہیں اور مختلف اضلاع میں 18 کروڑ کی لاگت سے ویمن پولیس اسٹیشن بنائے جائیں گے جبکے بجٹ میں 256 ارب روپے مختلف مد میں سبسڈی کے لیے جب کہ 147 ارب حکومتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں، ٹرانسپورٹ کے لیے 13 ارب روپے، سماجی بہبود کے لیے 3.83 ارب، ورک اینڈ سروسز کے لیے 99.82 ارب روپے رکھے گئے ہیں، سندھ ہائی کورٹ میں 5 کروڑ روپے کی لاگت سے 12 نئی عدالتیں تعمیر ہوں گی اور صوبے میں پانی پر عائد ٹیکس آمدنی سے 374.50 ارب روپے حاصل ہوں گے جب کہ وفاق سے ٹرانسفر کی مد میں 1055.50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ریکروٹنگ ایجنٹس کے لیے سیلز ٹیکس میں 5 فیصد کی رعایت آئندہ دو مالی برسوں یعنی جون 2024ء تک برقرار رہے گی تاکہ اس سے بیرون ملک ملازمت کے خواہش مند افراد فائدہ اٹھاسکیں، کیبل ٹی وی آپریٹرز کی خدمات انجام دینے والوں کے لیے 10 فیصد ٹیکس ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نےکہا کہ سندھ حکومت کے بجٹ کا حجم 1713 ارب 58 کروڑ روپے ہے جس میں سالانہ مجموعی ترقیاتی پروگرام کے لیے 459 ارب، تعلیم کے لیے 326 ارب روپے اور صحت کے لیے 219 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے لیے 174 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور زراعت کی بہتری پر 24 ارب روپے خرچ ہوں گے اور لوکل گورنمنٹ کے لیے 78.59 ارب روپے مختص ہیں۔

بجٹ تقریر میں سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سالانہ ترقیاتی بجٹ کے 459 ارب کے حجم میں سے صوبے کی 4158 اسکیموں کے لیے مقامی وسائل سے 332 ارب روپے خرچ ہوں گے جب کہ 91.14 ارب روپے غیر ملکی فنڈز سے حاصل کیے جائیں گے، اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں 30 ارب روپے خرچ ہوں گے اور وفاق سے پی ایس ڈی پی کی میں میں 6.02 ارب روپے ملیں گے، آب پاشی کے لیے 56 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، پانچ ارب روپے مینٹی ننس، 7 کروڑ 70 لاکھ کنال کی صفائی کے لیے، 15 کروڑ کی گرانٹ سے سندھ ایری گیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی قائم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے لیے 33 ارب روپے مختص کیے جائیں گے ،کے الیکٹرک اور دیگر اداروں کو 26 ارب روپے واجبات کی ادائیگی کی جائے گی، بجلی کی ترسیل اور نظام کی بہتری کے لیے ایک ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، 10 کروڑ روپے سندھ کول اتھارٹی کے لیے، 22 کروڑ روپے سولر، پن بجلی منصوبوں، 25 کروڑ روپے اسکولوں کو بجلی پہنچانے کے لیے مختص ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی کے لیے 24 میگا اسکیمز کی مد میں مجموعی طور پر 10 ارب 82 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، نئے بجٹ میں کراچی کے لیے مزید نئی 6 اسکیمز کا اضافہ کیا گیا ہے جن کے لیے تین ارب مختص ہیں جب کہ کراچی میں پہلے سے ہی 18 میگا اسکیمز پر کام جاری ہے ان میں 11 منصوبے سندھ اور وفاقی حکومت کے اشتراک سے جاری ہیں، جبکے ملیر ایکسپروے منصوبے کے لیے 27 ارب روپے، ماڑی پور ایکسپروے کے لیے 11 ارب روپے، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کے لیے 17 ارب، ایم نائن اور این فائیو لنک روڈ کے لیے 1اعشاریہ 9 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ان منصوبوں کو سندھ حکومت پبلک پارٹنر شپ کے تحت پورا کرے گی۔

ویراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ زراعت کے شعبے میں پیشہ ور خواتین کے لیے بے نظیر ویمن ایگری کلچر ورکر پروگرام سے 50 کروڑ روپے کی معاونت کی جائے گی، غریب گھرانوں کو مویشی پالنے پر 50 کروڑ روپے، ماہی گیری کے فروغ پر 50 کروڑ روپے، کسانوں کو کھاد، بیجوں اور زرعی ادویات کی خریداری پر 3 ارب روپے کی سبسڈی دے جائے گی، بجٹ میں تخفیف غربت اور سماجی بہبود کے لیے مالی معاونت میں اضافہ کیا گیا ہے، خصوصی افراد کو بااختیار بنانے پر 25 کروڑ روپے، سندھ پیپلز سپورٹ پروگرام کے لیے 15ارب روپے، اولڈ ایج ہومز کی تعمیر نو پر 10 کروڑ روپے، یتیم خانوں کی بہتری پر 10 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، بے نظیر ہاؤسنگ سیل کے تحت مستحق گھرانوں کی رہائشی سہولت کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال سندھ حکومت باصلاحیت طلبہ کو 1.2 ارب روپے کے وظائف دے گی، سندھ حکومت نویں سے بارہویں جماعت تک رجسٹریشن، انرولمنٹ اور سالانہ فیس کی مد میں 2 ارب روپے کی معاونت فراہم کرے گی، صحت، زراعت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کرنے پر 50 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، ایک ارب 20 کروڑ روپے کی پوزیشن ہولڈرز کو اسکالر شپس ملیں گی،
وزیراعلیٰ سندھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار سندھ کا بجٹ عوامی آراء کی روشنی میں ترتیب دیا گیا، سندھ کے بجٹ کو عوامی امنگوں اور ترجیحات کے مطابق مرتب کرنے پر سٹیزن بجٹ کا عنوان دیا گیا، سروے میں 18 سال سے لے کر 60 سال سے زائد عمر کے شہریوں کی رائے لی گئی، عوامی رائے اور ترجیحات جاننے کے لیے سروے، اشتہارات، ورکشاپس کے ذریعے فیڈ بیک حاصل کیا گیا۔