news-details

عمران خان حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر اسمبلی کیسے اور کیوں چھوڑ آئے؟، سپریم کورٹ

اسلام آباد: (بدھ: 05 اکتوبر2022ء) نیب ترامیم کےخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عمران خان حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر اسمبلی کیوں چھوڑ آئے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نیب ترامیم کےخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر نیب نےاٹارنی جنرل کےدلائل اپنانےکا تحریری موقف عدالت میں جمع کرا دیا۔ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ عوامی عہدیدار ہونا ایک مقدس ذمہ داری ہوتی ہے، عوامی عہدیداروں کےاحتساب کا قانون 1949 سے آج تک موجودہے،احتساب کے جتنے قوانین آئے عوامی عہدیداروں کو کسی میں استثنیٰ نہیں ملا۔
خواجہ حارث نے کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ کرپشن کو ملک کے لئے کینسر قرار دے چکی ہے، نیب قانون مضبوط کرنےکے بجائے ترامیم سے غیرموثر کیا گیا۔ دوران سماعت جسٹس منصورعلی شاہ نے استدسار کیا کہ پارلیمان اگر نیب قانون کو ختم کردے تو عدالت کیا کرسکےگی؟ کیا سپریم کورٹ نے ختم کیے گئےکسی قانون کی بحالی کا کبھی حکم دیا ہے؟ جواب میں خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ 1990 میں واپس لیا گیا قانون بحال کرنے کا حکم دے چکی ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے، پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع ہوتی ہے۔ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہا پلی بارگین سے متعلق قانون میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، پہلے پلی بارگین کی رقم نہ دینے والےکے خلاف کارروائی ہوتی تھی، اب پلی بارگین کی قسط نہ دینے والے کو سہولت دی گئی ہے، ترمیم کے بعد قسط نہ دینے والےکی پلی بارگین ختم ہوجائے گی، پلی بارگین ختم ہونے پر ملزم نیب ترمیم کا فائدہ اٹھاکر بری ہوسکتا ہے، ملزم بری ہوکر جمع کرائی گئی پلی بارگین رقم واپس مانگ سکتا ہے۔
عمران خان کے وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح تو ریاست کو اربوں روپےکی ادائیگی کرنا پڑے گی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا دباؤ ڈال کر ملزم سے پیسے لینا درست ہے؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین احتساب عدالت کی منظوری سے ہوتی ہے،اگر ملزم پر دباؤ ہو تو عدالت کو آگاہ کرسکتا ہے۔
دوران سماعت خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندے حلقےمیں کام نہ ہونے پر عدالت آسکتے ہیں اسمبلی نہیں جاتے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عمران خان پر بھی عوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا تھا، عمران خان حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر اسمبلی کیوں چھوڑ آئے؟ نیب ترامیم پر سوالات عمران خان اسمبلی میں بھی اٹھا سکتے تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ کے استفسار پر خواجہ حارث نے کہا کہ اسمبلی میں شورکرنےکی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، اسمبلی میں حکومت اکثریت سے قانون منظور کروالیتی ہے، اسمبلی میں نیب ترامیم پرکوئی بحث بھی نہیں ہوئی تھی۔