سمندری طوفان بائپر جوائے کراچی سے 600 کلو میٹر دور، ادارے ہائی الرٹ، سی ویو روڈ بند

news-details

کراچی: (پير: 12 جون 2023ء)  بحریہ عرب میں موجود طوفان بائپر جوائے مزید شدت اختیار کر گیا ہے، سمندری طوفان 15 جون کو کیٹی بندر سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان بائپر جوائے کراچی سے 600 کلو میٹردور جنوب میں موجود ہے، طوفان شمال مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے، بائپر جوائے ٹھٹھہ سے 580 کلومیٹر جنوب، اورماڑہ سے 720 کلومیٹر جنوب مشرق میں ہے۔

سردار سرفراز کے مطابق بائپر جوائے میں مزید شدت آگئی ہے، طوفان کا یہ سسٹم شمال کی جانب بڑھتا رہے گا، سسٹم کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 220 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، سسٹم کے مرکز اور اطراف میں لہریں 40 فٹ بلند ہو رہی ہیں۔ محکمہ کے مطابق طوفان کے اثرات کے نتیجے میں کراچی میں 13 جون سے 16 جون کے درمیان گرج چمک کے ساتھ تیز بارش اور آندھی کا امکان ہے، حیدرآباد، ٹنڈومحمد خان، ٹنڈوالہیار، میرپور خاص میں بھی 13 سے 16 جون کے درمیان تیز ہوائیں، گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،13 سے 17 جون کو ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر اور عمرکوٹ میں گرج چمک کے ساتھ آندھی کا امکان ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے متعلقہ اداروں کو مقامی زبان میں سمندری طوفان سے متعلق آگاہی مہم کی ہدایت کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ عوام موسمیاتی حالات سے آگاہ رہیں اور ساحل پر جانے سے گریز کریں، ماہی گیر کھلے سمندر میں کشتی رانی سے بھی گریز کریں، ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل اور ان سے تعاون کریں۔ کمشنر کراچی نے شہریوں کے ساحل سمندر پر جانے، ماہی گیری، کشتی رانی، تیراکی اور نہانے پر طوفان کے خاتمے تک کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

سندھ حکومت نے تمام ضلع افسران و ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور کراچی سمیت ساحلی اضلاع میں کنٹرول روم قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے علاوہ زیر تعمیر عمارتوں پر لگے میٹریل بھی ہٹانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت اور کے ایم سی ہسپتال ہائی الرٹ کر دیئے گئے ہیں جبکہ ڈی ایم سیز اور کنٹونمنٹ کو بل بورڈ ہٹانے کی ہدایات دی گئی ہیں، خطرناک عمارتوں سے رہائشیوں کی نقل مکانی اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو ریلیف کیمپ قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہیں۔

سندھ حکومت نے واٹر بورڈ ڈی واٹریننگ پمپ لگانے، ضلع انتظامیہ، رینجرز اور کوسٹ گارڈ کو دفعہ 144 پر عمل درآمد یقینی بنانے اور شیشے والی عمارتوں کے مالکان سے بات کر کے حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کے الیکٹرک کے سی ای او کو بجلی کھمبوں سے جانوں کا تحفظ یقینی بنانے اور پمپنگ سٹیشنز کو بلا تعطل بجلی فراہمی یقینی بنانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔ طوفان بائپر جوائے کے پیش نظر کیٹی بندر اور اطراف کے علاقوں سے 50 ہزار افراد کے انخلا کا منصوبہ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سمندری طوفان کے پیش نظر سجاول کی ساحلی پٹی کا دورہ کیا اور سجاول، ٹھٹھہ اور بدین کی ساحلی پٹی کا فضائی معائنہ کیا۔ اس موقع پر کمشنر حیدرآباد نے سمندری طوفان سے متعلق بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ شاہ بندر، جاتی اور کیٹی بندر کے سمندر کے نزدیکی دیہات سے 50 ہزار افراد کا انخلا ہوگا، شاہ بندر کے جزیروں سے رات 2 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، بدین کے زیرو پوائنٹ کے گاؤں بھگڑا میمن سے بھی لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سمندری طوفان 15 جون کو ٹکرائے گا، جون 17 تا 18 طوفان کا اثر کم ہو جائے گا، شدت میں معمولی سی کمی کے باعث طوفان 13 یا 14 جون کے بجائے 15 جون کو ٹکرائے گا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ طوفان ٹکرانے سے سمندر میں 4 تا 5 میٹر اونچی لہریں اٹھیں گی اور پانی بہت آگے آ جائے گا۔