سافکو کے تعاون سے دیہی علاقوں میں زراعت اور لائیو سٹاک کے لیے امدادی چیک تقسیم کیے گئے

news-details

حیدرآباد: (جمعہ 15 ستمبر 2023ء) سافکو کی جانب سے دیہی علاقوں میں زراعت اور لائیو سٹاک سے متعلق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو فروغ دینے کے لیے یورپی یونین، انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر 'آئی ٹی سی'، 'پی پی اے ایف' کے تعاون سے تین کروڑ پانچ لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم کیے گئے، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کرنے والوں کا بڑی کاروباری شخصیات سے بھی روبرو رابطہ کرایا گیا، جنہوں نے انہیں مصنوعات کا قدر بڑھانے اور برآمدات کیلیے طریقہ کار سے آگاہ کیا اور مستبل میں اپنے تعاون کا بھی یقین دلایا۔
یہاں ایچ آئی ڈی ہال سافکو میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر کی زیر صدارت منعقدہ تقریب میں تین کمپنیوں 'رشاد متین' کو کیلے کے لیے کولڈ اسٹوریج کی سہولیات، 'کے ٹی سی' کو آموں کے لیے 'پلپ یونٹ' قائم کرنے اور 'پرفیکٹ فوڈز' کو پھل اور سبزیاں خشک کرنے کے لیے ڈی ہابریشن پلانٹ لگانے کیلیے ایک ایک کروڑ روپیہ مالیت کے امدادی چیک دیئے گئے۔ جبکہ دودھ، مکھن، کیلے کے چپس، آم کا اچار ببرآمداتی معیار کے مطابق تیار کرنے کے لیے سات چھوٹے تاجروں میں 5 لاکھ روپے کی امداد کے چیک تقسیم کئے گئے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی سافکو کے بانی سلیمان جی ابڑو نےچیک وصول کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس امداد کا صحیح استعمال کرکے زرعی کاروبار کو سہارا دینے سے نہ صرف آپ کا کاروبار بڑھے گا بلکہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس طرح کے اقدامات سے غربت و بے روزگاری کو کم کرنے میں مدد ملے گی، آپ کی کامیابی پر کاروباری مراکز خود آپ سے رابطہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دودھ، مکھن، گھی، سبزیوں، پھلوں اور دیگر زرعی مصنوعات کو معیاری طریقے سے تیار کرکے اچھے پیسے کمائے جاسکتے ہیں اور بیرونی تجارت میں بھی اضافہ ہوگا جس سے زرمبادلہ آئیگا اور ملکی معیشت بہتر ہونے لگے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سافکو مائیکرو فنانس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سید سجاد علی شاہ نے امدادی چیک وصول کرنے والوں کو مبارکباد دی اور انہیں بتایہ کہ سافکو مائیکرو فنانس کمپنی بھی لوگوں کو کاروبار کی ترقی کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیے رہی ہے اور اس کے علاوہ کاروباری تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ اگر آپ لوگوں مزید رقوم کی ضروریات ہو تو ہم بھی آپ سے بھرپور تعاون کریں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر نے کہا کہ سافکو کا نصب العین رہا ہے کہ دیہی صنعتی ترقی کو فروغ دیکر خود روزگاری میں اضافہ کیا جائے جس کیلیے چھوٹے کاروباروں اور کاروباری گروپوں سے تعاون کرکے ان کو مالی طور پر خود مختار بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے امداد اور تربیت فراہم کرنے، مشاہداتی دورے کرانے اور ذریعہ معاش بہتر بنانے کے منصوبے شروع کرنے کے جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
اس کے لیے سافکو کے بانے بانی سلیمان جی ابڑو اور اس کی ٹیم کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ امید ہے کہ اس (GRAPS) پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کےتحت جن کو مالی امداد ملی ہے وہ اس کا درست استعمال کریں گے، جس سے ان کا کاروبار بڑھے گا اور ماحولیاتی انحطاط سے جو سندھ کا چالیس فیصد نقصان ہوا ہے، اس میں بھی کمی آئے گی۔ اس موقع پر کاروباری شخصیات نے اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کرنے والوں کو اپنے تعاون کی پیشکش بھی کی۔ تقریب سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سافکوذیشان میمن اور گرانٹ کے چیک وصول کرنے والوں نے بھی خطاب کیا۔