غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو دی گئی مہلت ختم،درجنوں زیرحراست،کیمپوں پر نفری تعینات

news-details

 کراچی/اسلام اباد:  (بدھ: 01 نومبر2023ء)ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد ہوڈنگ کیمپوں پر پولیس تعینات کردی گئی ہے، جس کے بعد انخلا کے لیے ملک گیر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

کراچی اور ملک کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو واپس جانے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی  مہلت گزشتہ شب ختم ہو گئی، جس کے بعد تاحال غیر قانونی طور پر رہنے والوں کی واپسی کے لیے  ملک گیر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لیے بنائے گئے ہولڈنگ کیمپ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

غیر ملکی تارکین وطن کو پرانا حاجی کیمپ میں رکھا جائے گا۔ اس دوران واپسی کے لیے اندراج نہ کروانے والوں اور چھپ کر غیر قانونی طور پر رہنے والوں کے انخلا کے لیے بھرپور آپریشن کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق شہر قائد میں غیر قانونی طور پر مقیم باشندوں  کی سب سے بڑی تعداد ڈسٹرکٹ ایسٹ، سہراب گوٹھ اور اطراف میں آباد ہے۔ کراچی میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 65 ہزار تارکین وطن رہائش پذیر ہیں۔

وزارت داخلہ کی جانب سے صوبوں کو غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی بے دخلی کا حکم جاری کردیا گیا ہے ، معمولی جرائم میں زیر تفتیش اور سزا یافتہ غیرقانونی مقیم غیر ملکیوں کو بے دخل کردیا جائے گا۔حکم کے مطابق کوئی پاکستانی غیرقانونی تارکین وطن کو پناہ دینے میں ملوث ہوا تو قانونی کارروائی ہوگی، بے دخلی کے منصوبے کا اطلاق پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکیوں پر ہو گا، منصوبے کے اطلاق میں کسی بھی ملک یا شہریت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جائے گا۔

سکیورٹی فورسز نے میپنگ اور جیو فینسنگ کرکے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کا عمل مکمل کرلیا ہے۔سندھ میں مقیم 2 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، اسی طرح خیبرپختونخوا میں مقیم 3 لاکھ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں میں سے رضاکارانہ طور پر واپس نہ جانے والوں کو ہولڈنگ سینٹروں میں منقتل کیا جائیگا۔پنجاب اور بلوچستان میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی کیلئے آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے اور ان کا ڈیٹا سکیننگ سے چیک کیا جا رہا ہے۔

لیویز حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افغانوں کی بڑی تعداد واپس جانے کے لیے چمن پہنچ چکی  ہے، جہاں افغان مہاجر خاندانوں کا اندراج کرنے کے بعد انہیں کیمپوں میں رکھا جا رہا ہےجہاں اب تک تقریباً 5 ہزار افغان مہاجر پہنچ چکے ہیں۔ اس دوران واپسی کے لیے اندراج نہ کروانے والوں اور چھپ کر غیر قانونی طور پر رہنے والوں کے انخلا کے لیے بھرپور آپریشن کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق شہر قائد میں غیر قانونی طور پر مقیم باشندوں  کی سب سے بڑی تعداد ڈسٹرکٹ ایسٹ، سہراب گوٹھ اور اطراف میں آباد ہے۔ کراچی میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 65 ہزار تارکین وطن رہائش پذیر ہیں۔

کراچی کے علاقے  صدر  میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 4 تارکین وطن کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا، پولیس کے مطابق چاروں افراد کا تعلق افغانستان سے ہے جو غیر قانونی طریقے سے شہر میں رہ رہے تھے۔کیماڑی،ایسٹ،ویسٹ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 30غیرقانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا، زیرحراست افراد کو متعلقہ تھانےمیں تحقیقات کےبعد ہولڈنگ کیمپ روانہ کیاجائےگا۔ حیدآباد کے نواضلاع میں 43افراد گرفتار کرکے کراچی پولیس اورایف آئی اے کےحوالے کیے گئے۔راولپنڈی میں بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی پاکستان میں قیام کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد بے دخلی کا آپریشن شروع ہوچکا ہے ۔پولیس زرائع کے مطابق اڈیالہ جیل سے 64 غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو اسلام آباد انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا جبکہ 100سے زائد غیر قانونی مقیم افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔اسلام آباد میں غیر قانونی طورپر رہائش پذیر باشندوں کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا ، طورخم بارڈر پر ایف آئی اے امیگریشن کے حکام افغان باشندوں کو افغان حکام کے حوالے کرینگے۔لاہور کے علاقے کاہنہ/ نشتر کالونی میں آخری تاریخ ختم ہونے پر 15 غیرقانونی مقیم غیر ملکی گرفتارکرلیے گئے ہیں۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ غیرقانونی مقیم غیرملکیوں کو ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن نہیں بڑھائی جائے گی۔