ایون فیلڈ ریفرنس:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے بری کر دیا

news-details

اسلام آباد: (بدھ: 29 نومبر2023ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں مقدمے سے بری کردیا، احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس سال کی سزا سنائی تھی۔ ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے ان میں اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز اور دیگر موجود تھے۔ نیب پراسکیوشن ٹیم بھی کمرہ عدالت میں موجود رہی۔

نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ نواز شریف کے شریک ملزمان مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو اپیل منظور کر کے بری کیا گیا، شریک ملزمان پر اعانت جرم کا الزام تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ سے شریک ملزمان کی بریت کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کر چکا ہے۔ امجد پرویز نے نیب آرڈیننس کی مختلف شقیں پڑھیں اور کہا کہ نیب آرڈیننس میں بے نامی دار لفظ کی تعریف کی گئی ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ  میرے خیال میں سزا معطلی بھی اسی بنیاد پر ہوئی تھی، سزا معطلی کے فیصلے میں ہم نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا سہارا لیا تھا، بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں مزید وضاحت کی ہے اس پر ہماری معاونت کریں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ  کیا ریفرنس میں لکھا ہے کہ نواز شریف نے کب یہ جائیدادیں خریدیں ؟ اس پر وکیل نے کہا کہ ریفرنس میں نہ تاریخ موجود ہیں نہ ہی نواز شریف کی ملکیت کا ثبوت ہے، ظاہر کردہ آمدن کے ساتھ یہ بتانا تھا کہ اثاثے بناتے وقت اس کی قیمت کیا تھی؟ نیب کو آمدن اور اثاثوں کی مالیت کے حوالے سے تقابل پیش کرنا تھا، اس کے بعد یہ بات سامنے آنی تھی کہ اثاثوں کی مالیت آمدن سے زائد ہے یا نہیں اور اس تقابلی جائزے کے بغیر تو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا جرم ہی نہیں بنتا۔ وکیل نے کہا کہ 1993ء سے 1996ء کے دوران یہ پراپرٹیز بنائی گئیں، ریفرنس میں کہیں نہیں لکھا گیا کہ یہ جائیدادیں کس تاریخ کو بھیجی گئیں، پاناما فیصلہ، جے آئی ٹی رپورٹ، نیب انویسٹی گیشن رپورٹ، ریفرنس میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے نواز شریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت ہو، واجد ضیا نے خود تسلیم کیا کہ نواز شریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کرنے کے شواہد موجود نہیں، فرد جرم عائد کرنے میں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ آپ کے اثاثے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق نہیں۔

نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ عدالت کا کہنا ہے کہ بچے عمومی طور پر والد کے زیر کفالت ہوتے ہیں اور عدالت نے صرف اس بات پر سزا سنائی کہ بچوں کے نام جائیداد پر والد ذمہ دار ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں ایک فیصلہ دیا ہے کہ بے نامی کیلئے 4 مندرجات کا ثابت ہونا ضروری ہے، ان چاروں میں سے ایک بھی ثابت نہیں تو وہ بے نامی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ جناب میرا امتحان کیوں لے رہے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تو ضروری ہوتا ہے ناں، چیف جسٹس کے ریمارکس پر قہقہے لگے گئے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کہاکہ  آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ریفرنس دائر کرنا آپ کی مجبوری تھی؟ ہم سمجھ رہے ہیں ریفرنس دائر کرنا نیب کی مجبوری تھی، ریفرنس دائر ہوگیا سزا بھی ہوگئی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مریم نواز کی بریت کے فیصلے کے خلاف نیب نے اس وقت اپیل نہیں کی تھی، اب وہ فیصلہ حتمی ہے اس پر ہم دلائل نہیں دے سکتے تو عدالت نے کہا کہ پھر اس کو منظور کرلیں؟ بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے احتساب عدالت کی دئی گئی سزا کالعدم قرار دے دی اور انہیں مقدمے سے بری کردیا، نواز شریف کو نیب کورٹ نے دس سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

فیصلہ سننے کے بعد نواز شریف نے کہا کہ آج میرے ساتھ انصاف ہوا ہے میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں۔ بعد ازاں وہ اسحاق ڈار سے گلے ملے اور روانہ ہوگئے۔ فیصلہ سامنے آںے پر ن لیگی کارکنوں ںے عدالت کے باہر نعرے بازی شروع کردی۔