بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت بحالی کی درخواستیں مسترد کر دیں،متعصبانہ فیصلہ برقرار

news-details

نئی دہلی: (پير:  11 دسمبر2023ء) بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحالی کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کیلئے دائر اپیلوں پر متعصبانہ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا 5 اگست 2019 کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، آرٹیکل 370 عارضی تھا، ہر فیصلہ قانونی دائرے میں نہیں آتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا صدر کا حکم آئینی طور پر درست ہے، بھارتی صدر کے پاس اختیارات ہیں، آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر کی شمولیت کو منجمد نہیں کرتا، جموں کشمیر اسمبلی کی تشکیل کا مقصد مستقل باڈی بنانا نہیں تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے سے متعلق درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے انتخابات 30 ستمبر 2024 تک کرانے کے احکامات جاری کر دیئے۔

واضح رہے کہ بھارت نے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی، مودی حکومت نے بھارتی آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، بھارت نے اس دوران کشمیر میں ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کیں۔ 2019 سے قبل ریاست جموں و کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے، کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے مودی حکومت کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے ہنگامی سماعتوں کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا معاملہ 4 سال تک دانستہ طور پر لٹکائے رکھا، بھارت نے کشمیر میں ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کیں، عوام نے بھارت کے ظالمانہ فیصلے کیخلاف بھرپور احتجاج کیا۔

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 370 کے فیصلے کے بعد کشمیر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ فیصلے کے بعد جموں کشمیر کے کچھ حصوں میں تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں حد سے زیادہ چوکیاں اور سڑکوں پر رکاوٹیں دیکھی گئی ہیں، بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کیلئے سری نگر اور مقبوضہ علاقے کے دیگر اضلاع میں بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد تعینات ہے۔ جموں کشمیر میں ہر جگہ بلٹ پروف موبائل بنکر گاڑیاں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں جبکہ ہائی ٹیک سی سی ٹی وی کی نگرانی کو بڑھا دیا گیا ہے۔