ذہنی بمادریوں پر بھی جسمانی عارضے کی طرح ہی توجہ دیں

news-details

 کراچی: (جمعرات:25 جنوری 2024ء) اگر دینی بیماری میں مبتلا ہر شخص کے ذہنی صحت پر توجہ دی جائے اور علاج کرایا جائے تو وہ اپنے گھر اور معاشرے کا کارآمد فرد بن سکتا ہے۔ایک با مقصد زندگی گزارنے کیلئے اچھی جسمانی اور ذہنی صحت لوگوں کیلئے بہت ضروری ہے۔

 ہر عمر کے افراد کا بہتر تعلقات کے ساتھ ایک کامیاب اور پر سکون زندگی کیلئے جسمانی ، ذہنی اور معاشرتی طور پر تندرست ہونا بے حد ضروری ہے۔ذہنی امراض بنیادی طور پر دماغ میں کیمیائی تبدیلیوں اور موروثی اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

 ان خیالات کا اظہار میٹنگ ڈائریکٹر کراچی نفسیاتی ہسپتال ڈاکٹر سید عبد الرحمن صاحب نے گلشن اقبال شاخ کی ابتدا پر منقعدہ اپنے خطاب میں کیا انھوں نے کہا 25 فیصد آبادی ذہنی امراض سے متاثر ہے یعنی ہر چار میں سے ایک شخص دینی بیار کے اثرات میں ہوتا ہے۔ یہی مسائل کا نشانہ تو بنتے ہیں تاہم زیادہ متاثر ہو نے والے معمول کے کام انجام نہیں دے سکتے اور بعض اوقات انکے گھر والے بھی بھی پہنی کیفیت سے لاعلم رہے ہیں۔

ان میں کچھ لوگ خود کشی پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان میں 5 سے 6 کروڑ افراد وہنی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 70 فیصد کسی بھی معالج کے پاس نہیں جاتے۔