سافکو کی جانب سے عید ملن پارٹی اور سلیمان جی ابڑو کی سالگرہ کی تقریب کا انعقاد

news-details

حیدرآباد: (منگل:16 اپريل2024ء)  سافکو، سافکو سپورٹ فائونڈیشن اور سافکو مائیکروفنانس کمپنی نے اپنے بانی اور سی ای او سلیمان جی ابڑو کی سالگرہ کی تقریب اور عید ملن پارٹی کا اہتمام کیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ سلیمان جی ابڑو کثیر جہتی اور ادارہ ساز شخصیت ہیں اس نے نہ صرف سماجی کاموں میں خود کو منوایا ہے بلکہ معاشی طور پر بھی ہزاروں لوگوں کو پیروں پر کھڑا ہونے میں کردار ادا کیا ہے۔

حیدرآباد کلب میں منعقدہ تقریب میں مختلف سماجی تنظیموں اور بینکوں کے اعلیٰ عہدیداروں، ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی اور سلیمان جی ابڑو کو لنگی، اجرک، گلدستے اور دیگر تحائف پیش کیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلیمان جی ابڑو نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے لوگوں کی عزت و توقیر سے اپنے کام کو آگے بڑھایا ہے، ہمیں معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اور زیادہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے عید سے ایک دن پہلے ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ پڑھی کہ ’آج دنیا میں 800 ملین لوگ بھوکے سوئیں گے، انہوں نے رات کا کھانا نہیں کھایا ہوگا‘۔ نہ صرف بھوک بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں جو ہم سب کو دکھی کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں اور محنتوں سے اپنے حصے کا چراغ جلا رہے ہیں۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی اور بہتری لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں جس کی وہ ہمارے علم، فکر اور فکر سے توقع رکھتے ہیں۔ شرکاء سے اظہار تشکر کرتے ہوئے سلیمان جی ابڑو نے کہا کہ آپ نے مجھے جو عزت بخشی ہے اس سے میرے عزم کو تقویت ملی ہے۔ نہ صرف سندھ، پاکستان بلکہ عالمی سطح پر ہم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پراعتماد ہیں۔

اس سے قبل، ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر نے تقریب سے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ سلیمان جی ابڑو کی شخصیت کے نہ صرف سماجی، ترقیاتی اور انسان دوستی والے پہلو ہیں بلکہ ان کا مضبوط پہلو ایک ادیب کا بھی ہے۔ ان کی جدوجہد سندھ کے عوام کے لیے ایک مثال ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف سے بہت پہلے، 1980 کی دہائی میں انہوں نے گاؤں گاؤں جاکر لوگوں کے مسائل سنے اور انھیں حل کرنے کے لیے جدوجہد کی اور ان کو آگے بڑھنا سکھایا۔ جس کے لیے انہوں نے 1986 میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی، لوگوں کو منظم کیا اور ہزاروں دیہات کو 'گوٹھ آباد اسکیم' کے تحت رجسٹر کرایا، تاکہ رجسٹریشن کی وجہ سے ریاست پر تعلیم، صحت، بجلی وغیرہ فراہم کرنے کی پابند عائد ہو۔ یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے، جو اس وقت تھا جب اکثر لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ 'این جی او' کسے کہتے ہیں۔

ڈاکٹر کنبھر نے کہا کہ سلیمان جی ابڑو نے 1992 میں لوگوں کے گذر معاش بہتر بنانے  اور چھوٹے کاروبار میں خواتین کی شرکت کے لیے کام کیا اور پھر سافکو سپورٹ فائونڈیشن کا قیام عمل میں لایا، پھر ایگری بزنس رورل فنانس کا ادارہ قائم کیا، اس کے بعد سافکو مائیکرو فنانس کمپنی قائم کی جو  پانچ سال پورے ہونے کے بعد روایتی بینک کی شکل اختیار کرلے گی۔  یہ اس فرد کی کامیابی ہے جو نیچے سے اوپر آیا ہے۔ سلیمان جی ابڑو کا یہ بھی عزم ہے کہ سندھ میں زرعی صنعتی انقلاب برپا ہو، چھوٹے پیمانے پر زرعی صنعتیں لگیں تاکہ لوگوں کو روزگار مل سکے۔ ان کا ویژن یہ ہے کہ "معیار اور سپلائی چین کو بہتر کر کے زرعی مصنوعات کی قدر بڑھنے سے سندھ کا کوئی بھی فرد بھوکا نہیں سو سکتا اور حقیقی رہنما دنیا اور قوموں کو ایسے ویژن دیتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ قومیں اپنے مقاصد حاصل اور منازل طے کرتی ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید سجاد علی شاہ نے کہا کہ ہم سب سلیمان جی ابڑو کے معاون ہیں، ہماری کوشش ہے کہ ان کی رہنمائی کو لوگوں تک پہنچایا جائے تاکہ ان کا معیار زندگی بہتر ہو اور وہ ترقی کے دھارے میں داخل ہو سکیں۔ عباس کوسو نے کہا کہ سلیمان جی ابڑو نے 1980 کی دہائی میں جو پھول لگائے تھے ان کی خوشبو دیگر چھوٹے اداروں کی شکل میں بھی ہر طرف پھیل چکی ہے۔ ایسی تقاریب کا انعقاد سندھ کے محسنوں کو ان کی زندگی میں پذیرائی دینے کا بہترین طریقہ ہے۔

تقریب سے زیب النساء ملاح، علینہ ماریہ، بشرہ، سبین جاوید، شوکت ابراہیم ابڑو، اقبال میمن، رفیق عیسانی، رؤف چانڈیو، مخدوم شہزاد، مکھی مہیش، خلیق بلوچ، فرحان میمن، رمیز اقبال، حمید ملاح، غفار چھچھر، آزاد میرواہی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ بشیر احمد ابڑو نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔